فضائل ذکر
اے عزیز! خوب جان لے کہ جس شخص نے غفلت کا پردہ اپنے دل سے اٹھادیا اور دل کے شیشے کو ذکر کی جلا سے صاف و شفاف کرلیا اس کا سینہ اللہ تعالیٰ کے بھیدوں کا خزانہ ہوگیا اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے انوار کا مطلع بن گیا۔ ہر ایک چیز کے صاف کرنے کے لیے ایک صیقل (جلا) ہوا کرتا ہے اور دل کا صیقل اللہ تعالیٰ کا ذکر اور موت کی یاد ہے۔ اگر تو اللہ تعالیٰ کی دوستی کا شرف حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس دولت کو اپنے قبضے میں لانا چاہتا ہے تو سب تعلقوں کو اپنے سر سے پھینک کر اس کی یاد میں مستغرق ہوجا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی دوستی کا یہی نشان ہے کہ اسی کو یاد کیا جائے، اسی لیے کہا گیا ہے:
اللہ تعالیٰ کی دوستی کی حقیقت اس کی یاد میں لگے رہنا ہے۔
ایک دن حضرت موسیٰ علی نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مناجات میں کہا: اے خداوند! مجھے کیونکر معلوم ہو کہ کون تیرا دوست ہے اور کون دشمن؟ حکم ہوا کہ میرا ذکر کرنے والا میرا دوست ہے اور مجھ سے غافل میرا دشمن۔ پس طالب حق کا فرض ہے کہ اپنے دل کو جو حضرت کبریا جل جلالہ کے نوروں اور بھیدوں کے ظاہر ہونے کا مقام ہے اللہ پاک کے ذکر کے ساتھ مجلیٰ کرے اور اسے دنیا کی محبت اور اس کی کثافت سے پاک و صاف کرے تاکہ دوستی کے مرتبے پر فائز ہوسکے۔ خدا کے بھیدوں کے مظہر حضرت خواجہ عبیداللہ احرار قدس سرہ نے فرمایا کہ ذکر الٰہی کلہاڑے کی طرح ہے جو خطروں کے تمام کانٹوں کو دل کے جنگل سے تراش دیتا ہے اور دل میں غیر کا نام و نشان تک نہیں چھوڑتا۔ جب دل اللہ تعالیٰ کے سوا سب سے پاک ہوجائے اور ماسوا کی پکڑ سے چھٹکارا پا جائے اور ذکر کرنے والے کا مطلوب و معشوق غیر نہ رہے تو ظاہر و باطن میں اس کا مطلوب رونق افروز ہوتا ہے۔ پس ایک لمحہ بھی اللہ کی یاد سے ہرگز غافل نہ ہونا چاہیے اور اپنے رات دن کے تمام وقتوں کو ذکر الٰہی میں لگادینا چاہیے، کیونکہ اس کے راستے کی بنیاد بہت ذکر کرنے پر ہی موقوف ہے اور آخرت کی بھلائی بھی کثرت یاد الٰہی پر ہی منحصر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
پس آدمی کے لیے اس سے بہتر اور کچھ نہیں ہے کہ ہمیشہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد ہو تاکہ اس کی برکت (ذکر کی کثرت) سے غیر اللہ کا خیال ہی جاتا رہے اور اپنے مظہر میں حق سبحانہ وتعالیٰ کے سوا کسی کو نہ پائے۔ چنانچہ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
یہیں سے ہم نشینی ظاہر ہوتی ہے اور اعلیٰ درجے اور بڑے بڑے رتبے حاصل ہوتے ہیں لیکن طبیعت کے جال کے گرفتاروں کو اس دولت کی کیا خبر اور غفلت کی نیند کے نشے میں ڈوبے ہوؤں کو اس بیان سے کیا اثر:
چغد را از گوشۂ ویرانہ پرس
پھول کی قدر مست بلبل ہی خوب جانتی ہے۔
ویرانۂ جنگل کے کونے کی بابت (اگر کچھ دریافت کرنا ہو) تو اُلو سے پوچھو۔
خدا کی محبت کے فدائی جب دم بھر بھی حق سبحانہ وتعالیٰ کی یاد سے غافل ہوجاتے ہیں تو ایسے بے آرام و بے چین ہوتے ہیں جیسے خشکی پر مچھلی، بلکہ اس دم کو مردہ دم اور بھاری گناہ جانتے ہیں۔
میان دیدہ اگر نیم موست کمتر نیست
دوست کی جدائی اگرچہ تھوڑی دیر کی ہو وہ تھوڑی نہیں
جیسا کہ اگر آنکھ میں آدھا بال بھی ہو تو کم نہیں ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تالیٰ کی یاد ایسی چیز ہے کہ ہر دم ایک تازہ درد اور بے اندازہ شوق بڑھاتی ہے اور ذاکر کے باطن کو صاف و مصفی کرتی ہے۔ اندرونی سیاہی اور نفس کی سختی کو دور کرتی ہے اور ماسوی اللہ کے خیالات کو دل سے دور کرتی ہے اور اس پاک ذات کو اپنے دل میں حاضر رکھنے کی خبر دیتی ہے اور فنا و مستی کا مزہ چکھاتی ہے یعنی تجھ کو تجھ سے غائب کر کے خدا کی طرف بلاتی ہے اور تجھ کو تجھ سے چھڑا کر معشوق حقیقی کا راستہ دکھاتی ہے اور یہ مطلب سارے سالکوں کا مقصود اور تمام طالبوں کا مطلوب ہے۔
اے عزیز! جو سانس غیر اللہ کے بغیر محبت و شوق کی رو سے خدا کی یاد میں آتا ہے وہ دنیا اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ہے بلکہ اس سانس پر دنیا اور اس کی چیزوں کو قربان کردیا جائے تو عین مناسب اور بالکل درست ہے۔
نقل ہے کہ ایک دن حضرت سلیمان علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک آدمی سے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کو اتنی بڑی سلطنت و دولت کا مالک بنا دیا ہے کہ کسی شخص کو نصیب نہ ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: اے نادان! خدا گواہ ہے کہ ایک خدا کو ماننے والے مومن کا صدق اور اخلاص کے ساتھ ایک مرتبہ کلمہ تسبیح (سُبْحَانَ اللّٰہِ) کہنے کا ثواب سلیمان علیہ السلام کی بادشاہت سے بہتر ہے، اس لیے کہ یہ بادشاہت فانی ہے اور اس کی تسبیح کا ثواب باقی اور باقی اگرچہ اندازا تھوڑا ہو فانی سے جو اندازا بہت ہو بہترہے۔ ایک بزرگ نے کیا اچھا کہا ہے:
دیوانہ کنی ہر دو جہانش بدہی دیوانۂ تو ہر دو جہاں را چہ کند
تو اپنا دیوانہ بنا کر اس کو دونوں جہان عطا فرماتا ہے، تیرا دیوانہ دونوں جہان کا کیا کرے۔
نقل ہے کہ حضرت عزرائیل علیہ السلام کو ایک شخص کی روح قبض کرنے کا حکم ہوا، انہوں نے تمام دنیا میں اس کو بہت تلاش کیا مگر کہیں پتہ نہ چلا، آخر اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں مناجات کی: خدایا! جس شخص کی جان قبض کرنے کا مجھے حکم ہوا ہے وہ مجھے تمام دنیا میں نہیں ملتا۔ ارشاد ہوا کہ وہ شخص ہماری یاد میں لگا ہوا ہے، پس جب تک وہ اس میں لگا ہوا ہے تو اس کو نہیں پاسکتا۔ ہاں جب ہمارے ذکر سے وہ غافل ہوجائے (تب تیرے قبضے میں آئے گا) لیکن اس سعادت کا تاج ہر ایک سر پر نہیں رکھتے اور یہ شہبازوں کی خوراک ہر ایک کم ہمت کے منہ میں نوالہ بنا کر نہیں دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
چشم کوتا گنج بیند درجہاں گوش کوتا بشنود اوصافِ آں
اگر ہر ایک شخص کا راستہ خزانے کی طرف ہوتا تو ہر ایک بھیک مانگنے والا اس راستے میں شہنشاہ بن جاتا۔
وہ آنکھ کہاں ہے جو اس خزانے کو دیکھے اور وہ کان کہاں ہیں جو اس کے اوصاف کو سنیں۔
پس اللہ تعالیٰ جس کو نہایت مہربانی اور بندہ پروری سے اپنی محبت کا ایک گھونٹ چکھاتا ہے اور اپنی پہچان کا لباس پہناتا ہے اس کو اپنی یاد میں مستغرق کردیتا ہے اور نیکی کی ہمت کو اس کا ساتھی بنادیتا ہے، اس لیے کہ ہمیشہ کی نیکی اور اصلی بھلائی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے حاصل ہوتی ہے اور لاکھوں برکتیں، خوبیاں اور نیکیاں ذکر سے ہی اپنا مبارک چہرہ دکھاتی ہیں۔ مثلا
اول: جب بندہ خدا کا ذکر شروع کرتا ہے تو اس کا دل خدا کے حضور میں حاضر ہوتا ہے اور پھر اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دل کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔
دوم: اللہ تعالیٰ ذکر کی برکت سے ذکر کرنے والے کو گناہوں سے دور رکھتا ہے۔
سوم: جب بندہ بہت ذکر کرتا ہے تو حق سبحانہ وتعالیٰ کی دوستی کی عظمت و بزرگی اس کے دل میں مضبوط ہوجاتی ہے۔
چہارم: جو شخص اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو یاد کرتا ہے۔
پنجم: جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر میں اس فنا ہونے والی دنیا سے چل بسے تو اللہ تعالیٰ کا ذکر قبر میں بھی اس کو تسلی دیتا اور اس کا غم دور کرتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے اپنے بندے کو وہ چیز عنایت کی ہے کہ اگر جبرئیل اور میکائیل کو بھی عطا کرتا تو ایک بڑی نعمت ان پر تمام کرتا، وہ یہ ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
پس اس سے زیادہ نیک بختی کیا ہوگی کہ حق تعالیٰ اس بندے پر اپنی یاد سے مہربانی کرے اور برخلاف اس کے اس سے بڑھ کر بدبختی کیا ہوگی کہ انسان بڑے رتبوں اور اونچے درجوں پر پہنچنے کی قابلیت کے ہوتے ہوئے بھی اپنی ذات کو ان نعمتوں سے بے نصیب رکھے۔ دیکھو! آدمی کے خیال میں ہزاروں بلکہ لاکھوں بے ہودہ خیالات گزرتے ہیں اگر ان کی جگہ ذکر الٰہی کو اختیار کرے اور بیٹھتے اٹھتے، سوتے جاگتے، کھاتے پیتے، بولتے چالتے، تنہائی اور مجلس وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کی یاد میں ہی مشغول رہے تو اس کے لیے کچھ مشکل نہیں۔ لیکن اس میں پوری پوری کوشش اور ہمت کی ضرورت ہے اور اس کی ترکیب یہی ہے (جیسا کہ ہم آگے چل کر مفصل بیان کریں گے) کہ ہر کام کے کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی مرضی یا نامرضی کو معلوم کرے یعنی یہ معلوم کرے کہ شرع شریف نے اس کام کے کرنے کا حکم یا اجازت دی ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوگا یا اجازت نہیں دی اور وہ ناخوش ہوگا۔ پس ناپسندیدہ کاموں کو چھوڑ کر پسندیدہ کاموں کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کرے اور اپنی نیت کو اس کے لیے خالص کردے، کیونکہ عملوں کا دارو مدار نیت پر ہے جیسا کہ ہم بتاچکے ہیں۔ نیز حدیث شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپﷺ نے فرمایا:
حدیث شریف میں آیا ہے کہ اہل بہشت پر اس سے زیادہ کوئی حسرت نہ ہوگی کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی یاد کے بغیر ایک لحظہ بھی ان پر کیوں گزرا تھا۔ پس جو شخص اپنے دل کو ایک طرف لگا کر اور ادھر ادھر بھٹکنے کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی یاد میں (جو اولیاء کی پونجی اور پرہیزگاروں کا لبا س ہے) ہمیشہ لگا رہے اور کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بغیر آرام نہ لے اور اس کے سوا اس کے دل کو چین نہ آئے وہ ایسی دولت کو پاتا ہے جس میں کبھی نقصان نہیں ہوتا اور حقیقت میں وہ یہی ذکر ہے جو دل کے کام کو لذت اور ذوق بخشتا ہے، یہی ذکر ہے جو مفلسوں کی پونجی ہے اور عاشقوں کے جھونپڑوں کا چراغ ہے، یہی ذکر ہے جو مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور طالبوں کو مطلوب تک پہنچاتا ہے، یہی ذکر ہے جو سالکوں کو ان کی ہستی سے الگ کرتا اور حق تعالیٰ کے جمال کا مشاہدہ کراتا ہے۔
اے عزیز! حضرت رب العزت کی بارگاہ میں سب سے بڑھ کر عمل اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا سب سے آسان طریقہ یہی ذکر ہے۔ چنانچہ ہر گروہ کے بزرگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ طالب مولیٰ کو شروع میں ذکر کے سوا اور کسی کام میں لگنا حرام ہے۔ قولہ تعالیٰ:
اب دل کے کان سے سن اور ہوش رکھ:
یعنی دل سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا (بغیر آواز کے)۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ وہ ذکر خفی جس کو فرشتے بھی نہ سن سکیں (ذکر جہر سے) ستر درجے بڑھا ہوا ہے۔ جب قیامت کے دن حق تعالیٰ شانہ تمام مخلوق کو حساب کے لیے جمع فرمائے گا اور کراما کاتبین اعمال نامے لے کر آئیں گے تو ارشاد ہوگا کہ فلاں بندے کے اعمال دیکھو کچھ اور باقی ہیں؟ وہ عرض کریں گے کہ ہم نے کوئی بھی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو لکھی نہ ہو اور محفوظ نہ ہو تو ارشاد ہوگا کہ ہمارے پاس اس کی ایسی نیکی باقی ہے جو تمہارے علم میں نہیں، وہ ذکر خفی ہے۔ (۵)
پس پوشیدہ ذکر یا دل کی یاد اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک ایسا خزانہ ہے کہ ہر وہ شخص جو دوسروں کی نظر سے اس کو چھپا کر رکھے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں پوشیدہ سانس لے اس جیسا کوئی نیک بخت نہیں ہے۔ اگر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو اس راستے میں بہادرانہ آ اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی چابی سے غفلت کا قفل کھول۔ زندگی بہت تھوڑی ہے اور سفر لمبا ہے، موت کی گھڑی سر پر کھڑی ہے اور ایک سخت ڈراؤنی جگہ میں جانا ہے، وہاں نہ کوئی دوست ہوگا جو دوستی کا حق ادا کرسکے، نہ کوئی مددگار ہوگا جو کسی قسم کی مدد کرسکے۔ صرف فضل الٰہی کے ساتھ نیک اعمال کام آئیں گے۔ اگر آج کے دن تجھے اللہ تعالیٰ کے ذکر کی عادت ہوجائے توحقیقت میں دونوں جہان کی دولت اور نیک بختی تجھے حاصل ہوجائے گی۔ جب ذکر الٰہی کی برکت سے انسان کا دل ماسوی کے میل سے پاک و صاف ہو جاتا ہے تو اس کی صفائی حد درجے کو پہنچ جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے جمال کا مظہر ہوجاتا ہے اور اللہ پاک کی درگاہ کا مقبول بن جاتا ہے۔
نقل ہے کہ حضرت بایزید بسطامی قدس سرہ السامی رحمۃ اللہ علیہ اللہ کی یاد میں ایسے محو رہتے تھے کہ آپ کا ایک مرید بیس برس تک ہر روز آپ کی خدمت میں جاتا رہا لیکن وہ ہر روز اس سے پوچھتے کہ تمہارا کیا نام ہے؟ ایک دن اس نے کہا: اے حضرت شیخ! میں بیس برس سے آپ کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں اور ہر روز جس وقت بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں تو آپ میرا نام پوچھتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: اے عزیز! میں تم سے مذاق نہیں کرتا بلکہ دراصل ایک نام (اللہ کا) میرے دل پر غالب آگیا ہے اور باقی تمام ناموں کو اس نے بھلادیا ہے، جس وقت تیرا نام لینا چاہتا ہوں اس نام کی شرم سے تیرا نام میری یاد سے چوک جاتا ہے۔ پس اے عزیز! جو شخص خدا کا طالب ہے وہ ہر وقت اس کے ذکر میں لگا رہتا ہے اور اللہ والوں کی جماعت اس بات پر متفق ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے اللہ تعالیٰ تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ اب اصل مدعا ظاہر کیا جاتا ہے۔
جاننا چاہیے کہ ویسے تو ہر قسم کی عبادت اور ہر کام شریعت کے مطابق اور سنت کے موافق کرنا ذکر ہی ہے، لیکن ہماری مراد یہاں مخصوص ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے کسی نام کا ورد رکھنا اور ان میں سب ذکروں سے بہتر اور بڑھ کر کلمۂ طیبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا ذکر ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے:
اور یہ بھی آیا ہے کہ کلمۂ طیبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا ثواب ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں ساتوں زمینوں اور آسمانوں کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے ان سب کو رکھا جائے تو کلمہ طیبہ والے پلڑے کا وزن بہت بھاری پایا جائے گا۔ (۷)
امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ السامی نے فرمایا ہے کہ لوگ کلمۂ طیبہ کی برکتوں سے واقف نہیں ہیں۔ اگر حق تعالیٰ تمام دنیا کو ایک بار کلمہ پڑھنے پر بخش دیں اور بہشت میں بھیج دیں تو گنجائش رکھتا ہے اور ظاہر ہوجاتا ہے کہ کلمۂ طیبہ کی برکتیں اگر تمام جہان میں بانٹ دی جائیں تو ہمیشہ سب کو کفایت کریں اور تروتازہ رکھیں اور انسان جان لے کہ کفر اور کدورت کے دور کرنے کے لیے کلمۂ طیبہ سے بہتر اور کوئی شفاعت کرنے والا عمل نہیں ہے، اس لیے ہمیشہ کی نیک بختی اور دولت کا راز یہی کلمۂ طیبہ ہے یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کیا ہی اچھی نعمت ہے کہ جو فتح ہے اسی سے حاصل ہے اور جو بھید ہے اسی سے حل ہوجاتا ہے اور طالب کا مطلب بھی اسی سے ظاہر ہوجاتا ہے۔ اگر تجھ میں ہوش اور سننے کے کان ہیں تو اس ذکر کی فضیلت حدیث شریف سے سن:
اخلاص پیدا کرنے کے لیے جس قدر اس کلمے کی کثرت مفید ہے اتنی کوئی دوسری چیز نہیں، اس کلمہ کا نام ہی جلاء القلوب ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
اسی وجہ سے حضرات صوفیائے کرام اس کلمہ شریف کا ورد کثرت سے بتاتے ہیں اور سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں روزانہ کا معمول تجویز کرتے ہیں۔
اے عزیز! یہی کلمۂ طیبہ ہے کہ سو برس کے کافر کو ایک بار کے پڑھنے سے دوزخ کی آگ سے بچادیتا ہے اور بہشت کا حق دار بنادیتا ہے۔ یہی کلمہ ہے جو دردمندوں کے زخم کا مرہم ہے اور مسکینوں کے دکھ کی دوا ہے۔ یہی کلمہ ہے جو عاشقوں کا وظیفہ اور مشتاقوں کی جان کا غم خوار ہے۔ یہی کلمہ ہے جو اس راستے کے چلنے والوں کو اپنے آپ سے دور اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک کرتا ہے۔ یہی کلمہ ہے جو انسان کے دل کو لَا کے ذریعے پاک و صاف کرتا ہے اور سالک کو غیروں کی پکڑ سے چھڑا کر اپنے آپ سے بھی بے خبر کردیتا ہے۔ چناں چہ ہرگروہ کے بزرگوں نے الفاظ اور معانی دونوں کے ساتھ فرمایا ہے اور لکھ دیا ہے کہ حق تعالیٰ کے طالب کے لیے تمام ذکروں سے کلمہ طیبہ کا ذکر بہت بہتر ہے۔ اشعار
افضل و بہترین ذکر خدا کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سچے عاشق ہیں وہ اپنی جان و دل کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پر قربان کر دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا افضل اور سب سے بہتر ذکر کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ہے۔
اور جاننا چاہیے کہ اس کلمہ طیبہ کا مغز اسم ذات لفظ اللہ ہے اور اس کو اسم ذات اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے، باقی نام صفاتی ہیں۔ پس اسم ذات کو اسمائے صفات پر وہی فضیلت ہے جو ذات کو صفات پر ہوتی ہے۔ ذکر کا طریقہ ہم آگے چل کر مفصل بیان کریں گے۔ یہاں صرف یہ بتانا ضروری ہے کہ افضل اور زیادہ مناسب یہی ہے کہ کسی کامل مرد ولی اللہ سے اس ذکر کی اجازت حاصل کرے تاکہ بہت جلد اس کا نتیجہ ظہور میں آئے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱۔ یہ قول ابوعبدالرحمن اور مالک بن دینار کی طرف منسوب ہے۔ بیہقی، شعب الایمان: ج۱ ص:۳۸۸، رقم ۵۰۱۔
۲۔ ابن ابی شیبہ ج۱، ص:۱۰۸، رقم ۱۲۲۴۔ الزاہد الابن حنبل: ص:۵۷، رقم۱۱۱۔
۳۔ مسلم: رقم ۲۵۶۴۔ ابن حبان: ج۲، رقم ۳۹۴۔
۴۔ ابن حبان: ج۲، ص:۹۱، رقم ۸۰۹۔ ابن ابی شیبہ: ج۶، ص:۸۵، رقم ۲۹۶۶۳، ۲۹۶۶۴۔ مسند عبد بن حمید: ص:۷۶، رقم ۱۳۷۔
۵۔ مسند ابویعلی: ج۸، ص:۱۸۲، رقم ۴۷۳۸۔
۶۔ ترمذی: ج۵، ص:۴۶۲، رقم ۳۳۸۳۔ ابن ماجہ: ج۲ ص:۱۲۴۹، رقم ۳۸۰۰۔ نسائی، کبریٰ: ج۶، ص:۲۰۸، رقم ۱۰۶۶۷۔
۷۔ یہ روایت آگے بیان ہو رہی ہے۔
۸۔ ابن حبان: ج۱۴، ص:۱۰۲۔ مستدرک: ج۱ ص:۷۱۰، رقم ۱۹۳۶۔ نسائی، کبری: ج۶، ص:۲۰۸، رقم ۱۰۶۷۰۔
۹۔ عجلونی، کشف الخفاء: ج۱، ص:۳۹۷، رقم ۱۰۶۸۔ حلیۃ الاولیاء: ج۲، ص:۳۵۷۔
رابطہ فرمائیں
ہمارے حضرت ڈاکٹر حافظ منیر احمد خان صاحب دامت برکاتہم کی ویب سائیڈ کی اپ ڈیٹنگ کا کام جاری ہے۔ کسی بھی قسم کے مشورے اور لنکس کی خرابی یا ویب سائٹ کی بہتری کے لیے قیمتی آراء سے آگاہ کیجیے۔رابطہ کریں