اللہ تعالیٰ کے بے پناہ احسانات ہیں کہ ’’المصطفی ٹرسٹ‘‘ حضرت ڈاکٹر غلام مصطفی خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی فیض رسانی اور روحانی توجہات اور ہمارے سرپرست اعلی حضرت ڈاکٹر حافظ منیر احمد خان صاحب دامت برکاتہم کی ہدایتوں اور رہنمائیوں، نیز تمام مریدوں اور عقیدت مندوں کے مخلصانہ تعاون سے برابر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اور الحمد للہ مندرجہ ذیل منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا چکا ہے۔
جس میں مزار شریف کی تعمیر و تزئین و آرائش جہاں حضرت ڈاکٹر غلام مصطفی خان رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے ساتھ ان کے دو صاحبزادے اور حضرت ابوقاسم رحمۃ اللہ علیہ آرام فرما ہیں۔ اس کے علاوہ جامعہ مجددیہ کا باقاعدہ افتتاح، سراج ماڈل اسکول، ڈاکٹر غلام مصطفی خان لائبریری کا قیام، زوّاریہ آڈیٹوریم کا قیام، مسجد غفوریہ کا قیام اور ساتھ ساتھ ایک کشادہ وضو خانہ، خواتین کے لیے نماز کی جگہ اور ساتھ وضو خانہ، ٹرسٹ کی آرائش، زیبائش کے لیے کیاریوں کی تعمیرات اور ان کو پھولوں اور پودوں سے مزین کرنا، کھجور، انجیر اور زیتون سے مزید آراستہ کرنا شامل ہے۔
نئے منصوبوں میں بھی ابھی کام ہونا باقی ہے۔ جیسے ڈاکٹر غلام مصطفی خان لائبریری کے لیے ایک علیحدہ عمارت بنانا، اسی طرح جامعہ مجددیہ جو کہ اس وقت مسجد کے صحن میں قائم ہے اس کے لیے بھی ایک علیحدہ عمارت کا قیام، سراج ماڈل اسکول کے طلبہ و طالبات میں اضافے کے باعث اس کی بھی مزید توسیع، جامعہ مجددیہ کے طلبہ و طالبات کے لیے ہوسٹل کا قیام، ایک بڑی پانی کی ٹینکی جو پورے المصطفی ٹرسٹ کے لیے کافی و شافی ہو، نیا جنریٹر وغیرہ جیسے کام ہونے باقی ہیں۔
المصطفی ٹرسٹ فی سبیل اللہ چلنے والا ادارہ ہے۔ اس کا کوئی مستقل آمدن نہیں ہے۔ یہاں ۳۰ سے زائد عملہ مستقل بنیادوں پر اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔ ان کی تنخواہوں کے اخراجات اور یوٹیلٹی بلز وغیرہ المصطفی ٹرسٹ کے ذمہ ہیں۔ یہ اخراجات آپ سب مخیر حضرات کے تعاون سے الحمدللہ جاری ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ ہم سب کی خدمات کو درجہ قبولیت عطا فرمائیں اور ہمارے حضرت ڈاکٹر غلام مصطفی خان رحمۃ اللہ علیہ کے لگائے اس گلشن کو تا قیامت ترقی کی راہ پر گامزن رکھے، آمین ثم آمین۔
المصطفی ٹرسٹ کے احاطہ میں واقع جامع مسجد غفوریہ کا سنگ بنیاد چہار شنبہ ۱۶ شعبان المعظم ۱۴۲۳ھ بروز بدھ ۲۳ اکتوبر ۲۰۰۲ء کو بدست مبارک حضرت شیخ پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی خان رحمۃ اللہ علیہ اور پروفیسر ڈاکٹر مفتی محمد مظہر بقا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے رکھا۔ مسجد کا نام حضرت مولانا عبدالغفور عباسی مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے منسوب غفوریہ مسجد رکھا۔
اس مسجد کا افتتاح ۱۷ ستمبر ۲۰۰۶ بروز اتوار کو حاجی ابراہیم، حاجی عبدالکریم تیلی مدظلہ نے کیا۔ اس مسجد میں ہزاروں نمازیوں کی نماز ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے اور ایک وسیع صحن وضو خانہ موجود ہے۔ خواتین کے لیے بھی نماز ادا کرنے کی سہولت موجود ہے اور الگ وضو خانہ کا انتظام بھی موجود ہے۔
یہ وسیع مسجد اپنے وقت کی دیگر مساجد سے فن تعمیر میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ یہ مسجد ۷ گیٹ پر مشتمل ہےجن کے نام عشرہ مبشرہ کے ناموں پر رکھے گئے ہیں۔
المصطفی ٹرسٹ نے خالص دینی تعلیم کے لیے ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی جس کے تحت ایک معیاری، عملی، دینی نظام تعلیم پیش کرنے کا ارادہ کیا جس کے تحت اعلیٰ معیاری تعلیم جو اسلام اقدار پر مبنی ہو اور ایک بہترین تربیت جو بزرگان دین کا شیوا رہی ہے پر بچوں کو ڈھالا جائے، جس کا مقصد ہماری آنے والی نسلیں اسی طرز پر زندگی گزاریں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کےبتائے ہوئے طریقوں پر ہو۔ اسی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور وقت کی ناگزیر ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے المصطفی ٹرسٹ نے اس ادارے کی بنیاد رکھی۔
بچوں کی ابتدائی تعلیم سے لے کر دور جدید کے تقاضوں کے مطابق دینی و دنیاوی تعلیمی ضروریات ایک چھت کے نیچے فراہم کرنا جو ایک معاشرے کی اہم ضرورت ہے۔
ہماری آئندہ نسلیں اس راستے کی پیروی کریں جو کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے بتایا ہے۔
بچوں اور بچیوں کو حفظ اور ناظرہ کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاق اور کردار کی مکمل تربیت دی جائے۔
جامعہ مجددیہ کو شعبہ تحفیظ القرآن سے ایک مکمل درس نظامی تک لے کر جانا،
دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بھی آراستہ کیا جائے۔
عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی استعداد اور صلاحیت پیدا کی جائے۔
زندگی کے ہر شعبہ میں بڑھ چڑھ کر کامیابی حاصل کی جائے۔
ملکی اور بیرونی سطح کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی میں بھی سرخروئی حاصل کی جائے۔
جامعہ کی تمام تعلیمی بنیاد کو علم اخلاص کے ساتھ مزین کرنا ہے۔
اللہ رب العزت کی عنایتوں اور رحمتوں پر توکل کرتے ہوئے جامعہ مجددیہ کے مستقبل کے منصوبے درج ذیل ہیں
شرعی امتزاج اور ماحول کے ساتھ ایک ایسا عصری تعلیم کا نظام متعارف کروانا جس میں طالب علم کو ایک مضبوط تعلیمی بنیاد فراہم کی جائے جس کے ذریعے وہ اعلی تعلیمی معیار حاصل کرسکے اس منفرد نظام تعلیم کو اس کول سے لے کر یونیورسٹی تک وسیع کرنا اور تمام طالب علموں کے لیے بہترین ماحول میں تعلیم کا حصول اسلام اقدار و ورثہ کے مطابق فراہم کرنا۔
اس وقت جامعہ مجددیہ مسجد غفور یہ کے ہال میں اپنی سرگرمی جاری رکھے ہوئے ہے جہاں طلبہ و طالبات کی تعداد ۶۱ ہے اور اساتذہ کرام کی تعداد ۴ ہے، اس میں الحمدللہ طلبہ و طالبات کو بلامعاوضہ قرآن پاک کی تعلیم دی جاتی ہے یہ مدرسہ وفاق المدارس سے بھی الحاق شدہ ہے۔
وقت کے تقاضوں اور طلبہ و طالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے اس کو الگ عمارت میں منتقل کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے جو ہماری مستقبل کی حکمت عملی میں موجود ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ جامعہ مجددیہ کو اس کے اپنے منشور علم عمل اخلاص کے مطابق بنائے اور گمراہی اور جہالت کو دور کرنے میں جامع کردار ادا کرنے والا بنائے، آمین ثم آمین۔
المصطفی ٹرسٹ نے وقت کی ضرورت و اہمیت کو سمجھتے ہوئے عصری تعلیم کو شرعی تقاضوں کے تحت ڈھالنے کے لیے ایک معیاری عملی نظام تعلیم پیش کرنے کا ارادہ کیا جس کے تحت دینی اور دنیاوی تعلیم کا حصول اور بامقصد طرز زندگی کا حصول ممکن ہو۔ اسی فکر کے تحت سراج ماڈل اسکول کا قیام ہوا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہماری آئندہ نسل نبیﷺ کے لائے ہوئے طریقوں کی پیروی کریں اور ساتھ ساتھ جدید علوم و فنون اور معتدل رویوں سے روشناس ہو کر بین الاقوامی سطح پر دین کی خدمت کریں اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور دنیا و آخرت میں سرخروئی حاصل کرسکیں۔
بچے کی ذاتی صلاحیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی معاشرتی، ذہنی، جسمانی اور سماجی تربیت کرنا۔
بچوں کی ان کے عمر کے لحاظ سے روحانی اور اخلاقی تربیت کرنا۔
بچوں کو دینی معلومات اور تربیت عملی تعلیمی مشقوں کے ذریعہ فراہم کرنا۔
تربیت کے نصاب میں ابتدائی عمر سے تمام ابواب عقائد، فقہ، اخلاق و آداب، سیرت، مسنون دعائیں، تاریخ پر ان کی عمر کے لحاظ سے توجہ دینا۔
سراج ماڈل اسکول میں اس وقت پرائمری سے سیکنڈری تک تعلیم جاری ہے جس میں اس وقت ۱۳۵ طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں اور اساتذہ کی تعداد ۱۴ ہے۔ اس کے طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے اس کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے، اب الحمدللہ دوسری منزل کی تعمیر کا کام شروع ہوگیا ہے۔ اس وقت اسکول کے ۱۱ کمرے موجود ہیں جو کہ نہ کافی ہیں۔
وسیع کشادہ عمارت
پریکٹکل روم
کمپیوٹر لیب
کیمبرج تعلیمی نظام۔
© 2024 hdhmak. حضرت ڈاکٹر حافظ منیر احمد خان - جملہ حقوق محفوظ